Please enable JavaScript.
Coggle requires JavaScript to display documents.
ناموسِ رسالت اور فرانس کے سفیر کی بے دخلی, سوالات - Coggle Diagram
ناموسِ رسالت اور فرانس کے سفیر کی بے دخلی
تحریک لبیک کے قائد کی گرفتاری، احتجاج اور حکومتی پابندی
سوالات
١. کیا حکومت کسی پارٹی پر پابندی عائد کر سکتی ہے؟ سوچیں اگر یہ پابندی پی پی پی پر عائد کی گئی ہوتی.
٢. کیا تحریک لبیک پر پابندی کا جواز موجود ہے؟
٣. کیا یہ پابندی مؤثر ہو سکتی ہے؟ خادم حسین رضوی صاحب فرما چکے ہیں کہ پابندی کی صورت میں وہ اپنی جدوجہد کسی اور نام سے شروع کر دیں گے.
٤. تحریک لبیک کے ہمدردوں جیسے صحافی نادر بلوچ کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں کسی نظریہ پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی اور کسی بھی نظریہ کی زبان بندی ناممکن ہے.
سوال: اگر پاکستان جیسے ملک میں، جہاں آزادیِ اظہارِ رائے مشکل ہے، اگر ایک پابندی کا شکار گروہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کی آواز خاموش نہیں کی جا سکتی۔۔۔ کس طرح وہی گروہ یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ کسی بات پرپابندی لگائی جائے، وہ بھی ایک آزاد ملک میں؟
یقیناً کسی بھی نا ماقول اشاعت پر ہر کوئی اپنا احتجاج رکارڈ کرا سکتا ہے۔ لیکن اشاعت پر پابندی کے مطالبہ پر عمل کیسے ہو سکتا ہے؟
ناموسِ رسالت ہے کیا
١. اسلام کے عقیدے کے مطابق آپ حضرت محمد ﷺ کے آخری پیغمبر ہیں، آپﷺ معصوم ہیں یعنی ہر گناہ سے پاک، آپﷺ انسانیت کے لئے بہترین مثال ہیں، آپﷺ رحمت العالمین ہیں، آپﷺ کی زندگی کا ہر عمل سنت ہے اور ہمارے لئے اس پر عمل کرنے سے ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جائیں گے.
آپ ﷺ سے محبت اسلام کا بنیادی تقاضا ہے. آپ ﷺ کا اتباع ہی اسلام ہے. آپ ﷺ پر ہی قرآن نازل ہوا ہے جو اللہ کا کلام ہے. آپﷺ خود بھی کوئی بات خود سے نہیں کہتے بلکہ آپﷺ کی ہر بات اللہ کی طرف سے ہی ہے.
امت میں ہر ایک نے آپﷺ سے بے پناہ محبت کی ہے. امت نے صرف انہی کی عزت کی ہے جس نے آپﷺ سے محبت کا دعویٰ کیا ہے اور آپﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ تمام فرقے، سب علماء وغیرہ آپﷺ ہی کی سنت پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں.
آپﷺ سے جذباتی وابستگی، آپﷺ سے عشق اور عقیدت اس امت کا بنیادی کردار رہا ہے. آپﷺ سے وابستہ ہر شخص سے اس امت نے محبت کی ہے، آپﷺ سے وابستہ ہر محنت کا صلہ دیا ہے، آپﷺ سے وابستہ ہر روایت کی پیروی کی بے، آپﷺ کی ہر سنت کو زندہ رکھا ہے.
آپﷺ کے خلاف کی جانے والی کسی بھی بات سے مسلمان ہمیشہ بہت متاثر ہوتے ہیں، ان کے لیے آپﷺ کی ناموس کی بے حرمتی بہت غصہ کی بات ہے. جدید دور میں مغرب اور اسلام کے تناظر میں مسلمان ناموسِ رسالت کے خلاف مغرب کے اقدامات کو ان کی نسل پرستی اور مسلمانوں سے نفرت کا اظہار بھی سمجھتے ہیں
فرانس کے جریدے چارلی ہبدو میں شائع کردہ خاکوں کا معاملہ ہے کیا؟
حوالاجات
الجزیرہ پر پس منظر
ناموس رسالت اور امت مسلمہ کا موقف از محمد عمار خان ناصر
فرانسیسی سفیر کی ملک بدری: پاکستان کے آپشن کیا ہیں؟ از مونا خان
وکی پیڈیا پر پس منظر
پس منظر اور اہم تاریخیں:
۹ فروری ۲۰۰۶ : فرانسیسی جریدہ چارلی ہبدو میں چار کارٹون شائع کئے گے جس میں پیغمبر اسلام کا مذاق اڑایا گیا۔ اس دن ان کی اشاعت ۳ گنا بکی۔ مختلف اسلامی تنظیموں نے جریدہ کے خلاف نسل پرستی کی بنیاد پر مقدمہ کر دیا۔
نومبر ۲۰۱۱: چارلی ہبدو نے اپنے ایڈیٹر کا نام محمد رکھا۔ انکی ویب سائٹ کو ہیک کیا گیا اور آفیس پر فائر بم سے حملہ ہوا۔
ستمبر ۲۰۱۲: جریدہ نے ایک کے بعد ایک کارٹون شائع کیے جس میں پیغمبر اسلام کی توہین مقصد واضح تھا۔ دنیا بھر میں اس پر احتجاج ہوا۔ مغرنی رہنماوٗں مثلا امریکی صدر اور فرانسیسی وزیر داخلہ نے بھی اس کی مذمت کی۔
۷ جنوری ۲۰۱۵: ۲ افراد نے جریدہ کے آفس پر حملہ کر کے ۱۲ لوگوں کو مار دیا۔ دنیا بھر میں اس واقعہ کو دہشت گردی کہا گیا اور بشمول اسلامی تنظیموں اور مسلم ممالک اس کی مذمت کی گئی۔ اگلے دن چند ہزار چھپنے والا جریدہ کی اشاعت پچاس لاکھ ہوئی
ستمبر ۲۰۲۰: جریدہ نے ۲۰۱۲ کے کارٹون دوبارہ شائع کرنے کا اعلان کیا۔ ترکی صدر کا بھی کارٹون شائع کیا گیا۔
مسلم دنیا میں اس بات پر احتجاج کیا گیا، تاہم فرانس کے صدر نے جریدہ کی آزادی اظہار رائے کا حق تسلیم کیا
۲۵ ستمبر ۲۰۲۰: ایک پاکستانی نے جریدہ کے پرانے آفس کے باہر ۲ افراد کو چھرا گھونپ دیا۔
1 more item...
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اسلام اور مقدس اسلامی شخصیات کے خلاف مواد سے بھرے ہوئے ہیں۔ بہت سارا مواد خود مسلم فرقہ وارانہ علماؑ کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ بہت سارے دیسی ملحد روز کی بنیاد پر پیغمبرِ اسلام اور دیگر مقدس شخصیات پر رقیق حملے کرتے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ نا تو ان سب کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے، نا رپوٹ کیا جاتا ہے، نا ہی انکے اعتراضات کے جواب کے لئے کوئی محنت۔
کیا وجہ ہے کہ صرف ھائی پروفائیل واقعات پر ہی عوامی ایجیٹیشن کیا جاتا ہے؟
پاکستان میں ناموس رسالت اور فرانس کے سفیر کی بے دخلی پر سب کا کردار
پس منظر:
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی رسولِ خداﷺ سے وابستکی زیادہ جذباتی اور شدید ہے۔ انگریز کے دور میں انھوں نے لوکوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کر کے ہر گروہ سے وفاداری لینا چاہی، لیکن ساتھ ساتھ معاملات کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے توہینِ مذہب کا قانون بھی رکھا جس کی تحت کسی بھی مذہب، اسکی شخصیات، روایات اور عبادتگاہوں کی بے حرمتی پر پھانسی تک کی سزا تھی۔
انگریز نے ہر کروہ میں ایسے لوگوں کی ہمت افزائی کی جو عوام کو انگریزوں سے تعاون پر اور ان کی تہذیب، علوم وغیرہ اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ جیسے مسلمانوں میں سر سید احمد خان، مرزا غلام احمد قادیانی۔ مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا بھی بن کیا جس نے پرانی تہذیب کو باقی رکھنے کی ٹھان لی۔ ان لوگوں نے مدرسے بنائے، اور مسامانوں کی سماجی رہنمائی کے لئے ان کا مقابلہ ماڈرن رہنماوٗں سے ہونے لگا۔
ناموسِ رسالت کا مسئلہ دونوں طبقات کے لئے قدر مشترک رہا۔ مثلاً غازی علم الدین کا واقعہ
تقسیم کے بعد کے پاکستان میں وہ لوگ زیادہ فائدے میں رہے جو انگریز سے تعاون پذیر رہے۔ اس میں قادیانی اس وجہ سے نمایاں تھے کہ وہ مذہبی طور پر اقلیت میں تھے۔ ۱۹۵۳ میں قادیانوں کے خلاف مجلسِ احرار اور دیگر مذہبی عوامل کی کامیاب ایجیٹیشن ہوئی۔
۱۹۷۳ کے آئین میں قادیانیوں کو مذہبی اقلیت طے کر کہ بھٹو نے ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے نام پر دائیں باذو کی مذہبی جماعتوں کی عوام کو متحرک کرنے صلاحیت ختم کرنے کی کوشش کی۔
تاہم ۲ سال بعد ہی ان کے خلاف تحریک نظام مصطفی چلی جو ان کے قتل اور مارشل لاٗ پر ختم ہوئی۔
۱۹۸۸ میں سلمان رشدی کی تصنیف کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے
1 more item...
تحریک لبیک
نومبر ۲۰۲۰: تحریک لبیک نے فرانسیسی جریدہ میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور فرانسیسی صدر کی جانب سے جریدہ کی آذادیِ اظہار رائے کے حق میں بیان کے خلاف لانگ مارچ کیا، دھرنا دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو نکالا جائے، پاکستانی سفیر واپس بلایا جائے اور تمام فرانسیسی مصنوعات کا سرکاری طور پر بائکاٹ کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے یہ مطالبات ایک معاہدہ کی صورت مان لئے گے اور عمل درآمد کے ۳ مہینے کی مدد طے کی گتی۔
خادم حسین صاحب کی وفات کی بعد ان کے بیٹے کو امیر بنایا گیا۔ فروری میں حکومت سے ایک دوسرہ معاہدہ کیا گیا جس کے تحت ۲ مذید مہینے کی مہلت دی گئی۔ معاہدہ کے تحت حکومت فرانس کے سفیر کی بے دخلی کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔
۱۲ اپریل ۲۰۲۱: تحریک کے قائد حافظ سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا، جس کی فوراً بعد پورے ملک خصوصاً بالائی پنجاب میں حالات خراب ہو گئے۔ لیبک کی طرف سے روڈ بلاک کئے گئے، دھرنے دئے گئے۔ فرانس کے سفیر کی بے دخلی اور سعد رضوی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کے متشدد رویئے خصوصاً پولیس کے خلاف انکے اقدامات کے جواب میں وفاقی حکومت نے ۱۵ اپریل لبیک کو شدت پسند تنظیم قرار دے کر پابندی کا اعلان کر دیا۔
۱۸ اپریل ۲۰۲۱: وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ لبیک نے ۱۱ پولیس اہلکار اغوا کر لئے ہیں جبکہ لبیک نے پولیس کے ھاتھوں اپنے کئی کارکنوں کے جان سے جانے اور ذخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔
۱۸ اپریل ۲۰۲۱: مفتی منیب الرحمان نے لبیک کی حمایت میں ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا۔ مختلف جماعتوں بشمول فضل الرحمان اور جماعت اسلامی، کی جانب سے ان کی حمایت کی گئی۔
جماعت نے ہرتال کی حمایت کی۔ سندھ اسمبلی میں فرانس کے سفیر کی بے دخلی کا بل پیش کیا۔ سینیٹ میں بل پیش کیا کہ اس معاملہ پر بحث کی جائے۔
کیا وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اس معاملہ پر عوامی مظاہرے کئے، غیر متعلقہ سندھ اسمبلی میں فرانس کے سفیر کی بے دخلی کا بل پیش کیا، لبیک کے دھرنوں کا دورہ کیا لیکن نہ تو قومی اسمبلی یا سینیٹ میں فرانس کے سفیر کی بے دخلی کا براہِ راست بل خود پیش کیا، نہ دوسری جماعتوں سے اس مقصد کے حصول کے لئے رابطہ کیا۔
1 more item...
فضل الرحمان نے ہڑتال کی حمایت کر دی
کیا وجہ ہے کہ آپ کی جماعت نے لبیک کے احتجاج کی حمایت کی، انکے مطالبے کی بھی حمایت کی۔۔۔ لیکن نہ خود اسمبلی میں کوئی براہِ راست بل پیش کیا، نہ اس مسئلہ پر کوئی وسیع اتحاد بنانے اور رابطے کرنے کی کوشش کی؟
۱۹ اپریل ۲۰۲۱: لبیک اور حکومت میں یہ معاہدہ طے پایا کہ فرانس کے سفیر کی بے دخلی پر بحث کی درخواست پرائیوٹ بل کی حیثیت سے پیش کی جائے گی۔ لبیک نے یہ تسلیم کیا کہ فارن پالیسی بنانے کا حق حکومت کا ہے۔ لبیک نے اس معاملے کو فتح قرار دے کر اپنا احتجاج ختم کر دیا۔
نقصانات: ۲ پولیس والے جان سے گئے جبکہ ۸۰۰ ذخمی ہوئے۔ لبیک کے کم از کم ۲ کارکن جان سے گئے(لبیک کے مطابق ۲۷) اور ۴۰ ذخمی ہوئے۔ لوگوں کی گاڑیاں جلائی گئیں اور کچھ مریض بھی بر وقت اسپتال نہ پہنچ سکے۔
کیا وجہ ہے کہ تحریک لبیک نے خاموشی سے اسمبلی میں بیٹھے پیروں اور مذہبی جماعتوں سے رابطہ نہیں کیا اورانکے تعاون سے فرانس کے بائیکاٹ اور سفیر کی بے دخلی کا بل براہِ راست اسمبلی میں پیش نہیں کیا؟
فرانس کی مذمت کی گئی اور اس کی مصنوعات کے بائیکاٹ، مسلمانوں کی غیرت کا ذکر کیا گیا۔ کسی نے مذہبی جماعتوں کی حکمت عملی پر سوال نہیں اٹھایا۔
کیا وجہ ہے کہ دائیں بازو کے یہ دانشور مذہبی جماعتوں سے یہ سادہ سوال نہیں کرتے؟
جمیعت علماٗ اسلام اور دیوبند
مفتی منیب الرحمان اور بریلوی مکتب
جماعت اسلامی
پہلی نومبر ۲۰۲۰
سیاسی جماعتیں
کسی جماعت نے فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے مطالبہ کو رد نہیں کیا، تاہم اسمبلی میں بے دخلی کے مطالبہ کا بل بھی پیش نہیں کیا۔
اگر سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ فرانس کے سفیر کی بے دخلی مناسب نہیں تو کیوں یہ موقف واضح طور پر اسمبلی ہی میں پیش نہیں کرتیں؟
دائیں بازو کے کالم نگار، سوشل میڈیا پر متحرک مذہبی رہنما اور دانشور
سوالات